پرویز الٰہی پر تشدد یا حادثہ ؟کے پی حکومت نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا

پرویز الٰہی پر تشدد یا حادثہ ؟کے پی حکومت نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا
کیپشن: پرویز الٰہی پر تشدد یا حادثہ ؟کے پی حکومت نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا

ایک نیوز :تحریک انصاف کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی پر جیل میں تشدد کیا گیا یا ان کیساتھ حادثہ پیش آیا پختونخوا حکومت نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل  سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے اڈیالہ جیل کے واش روم میں گر کر زخمی ہونے کی میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پرآئی تھی ۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میڈیکل رپورٹ انسداد دہشتگردی عدالت میں جمع کروائی تھی  جس کے مطابق واش روم میں گرنے سے پرویز الٰہی کی دائیں سائیڈ کی پسلی فریکچر ہوئی تھی ۔

رپورٹ کے مطابق پسلی میں فریکچر ایکسرے رپورٹ میں سامنے آیا، گرنے کے باعث پرویز الٰہی کے سر پر بائیں طرف چوٹ کا نشان ہے، واش روم میں گرنے سے ان کے ماتھے پر بھی چوٹ آئی ہے۔

میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرویز الٰہی کو بائیں آنکھ کے قریب بھی چوٹ آئی جبکہ ان کے بائیں بازو پر بھی چوٹ لگی، ان کا بائیاں گھٹنا بھی گرنے سے زخمی ہوا۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے میڈیکل رپورٹ میں پرویز الٰہی کو 2 ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

اس پر مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ اڈیالہ جیل میں پنجاب حکومت کا رویہ تشویش ناک ہے، خیبر پختونخواہ کی میڈیکل ٹیم کو چوہدری پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ ہمیں شدید تشویش ہے کہ مریم نواز ذاتی انتقام لے رہی ہیں اور ان کی ظالمانہ و آمرانہ حکومت سیاسی مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنارہی ہے، مریم نواز کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر پرویز الہیٰ پر تشدد ثابت ہوگیا تو آپ کیخلاف فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔ 

ترجمان کے پی حکومت نے مزید کہا کہ پنجاب کی جیل میں بانی پی ٹی آئی اور پرویز الہیٰ سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی حفاظت اور تحفظ پر ہمیں تشویش ہے۔