نیلم جہلم پاور پلانٹ جزوی بند،400میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی

نیلم جہلم پاور پلانٹ جزوی بند،400میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی
کیپشن: Neelum Jhelum Power Plant partially shut down, 400 megawatts of power left the system

ایک نیوز:نیلم جہلم پاور پلانٹ جزوی بند، 400میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی۔ واپڈا نے نیلم جہلم میں خرابی سے وزیراعظم آفس کو خط لکھ دیا۔
  ذرائع کے مطابق 400 میگا  واٹ بجلی دیگر پاور پلانٹس سے لینی پڑیگی۔ہائیڈل کا ایک یونٹ بجلی 3.51 روپے کا بنایا جاتا ہے۔ڈیزل سے ایک یونٹ کم از کم 45 سے 50 روپے فی یونٹ بنایا جاتا ہے۔20ماہ کی مرمتی کے بعد 29 مارچ 2024کو پلانٹ کو پوری صلاحیت پر چلایا گیا۔ واپڈا نے 29 مارچ کو نیلم جہلم پاور پلانٹ سے 969 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا اعلان کیا۔

ذرائع کے مطابق ہیڈ ریس ٹنل کا پریشر گرنے کے بعد بجلی کی پیداوار 400 میگاواٹ تک گر گئی۔51.5کلو میٹر طویل ہیڈ ریس ٹنل کا پریشر بھی گرگیا۔ہیڈ ریس ٹنل کی مرمتی کےلیے ریموٹ کنڑول گاڑی کی ضرورت ہے ۔ریمورٹ کنٹرول گاڑی کی لاگت 6 ارب روپے تک ہے۔2018میں کمشننگ کے بعد سے پروجیکٹ اب تک 19.829 ارب یونٹس پیدا کرچکا ہے۔ ٹیل  ریس ٹنل کی مرمت پر اس سے پیشتر بھی 6 ارب روپے کے اخراجات آچکے۔ واپڈا کے مطابق ٹیل ریس ٹنل کی مرمت کے بعد سے 1.54 ارب یونٹس بجلی پیدا کیے جاچکے۔
درستگی اور ٹیسٹنگ کے دوران توانائی کی مد میں ہونے والے 37 ارب نقصانات کے علاوہ ہیں۔جولائی 2022 میں طویل ٹیل ریس ٹنل میں دراڑیں آگئی تھیں۔مرمتی کےلئے  13 ماہ نیلم جہلم منصوبہ بند رہا تھا۔