راک این رول کی ملکہ الوداع، ٹینا ٹرنر چل بسیں

tina turner
کیپشن: tina turner
سورس: google

ایک نیوز : اپنی سُریلی اور جاندار آواز سے سامعین کو کئی دہائیوں تک اپنے سحر میں جکڑے رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹینا ٹرنر 83 سال کی عمر میں چل بسیں۔

 رپورٹ کے مطابق ٹینا ٹرنر کے انتقال پر موسیقی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے نامور فنکاروں نے اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔سٹیج پر آ کر چھا جانے والی ٹینا ٹرنر کی مقبولیت کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسیقی کی دنیا کے چمکتے ستارے لیجنڈری گلوکارہ کی وفات پر افسردہ ہیں۔

رولنگ سٹونز کے میک جیگر کا کہنا ہے کہ دنیا نے ایک بےحد باصلاحیت اداکارہ اور گلوکارہ کو کھو دیا۔ وہ متاثرکُن، گرم جوش، اعلیٰ حسِ مزاح رکھنے والی (فنکار) تھیں۔ جب میں جوان تھا تو انہوں نے میری بہت مدد کی، میں انہیں کبھی نہیں بھولوں گا۔
راک موسیقار بیڈ میٹ رونی وڈ نے ٹینا ٹرنر کو ’راک کی ملکہ اور ایک پیاری دوست‘ قرار دیا۔
سوئٹزرلینڈ کی جھیل زیورخ پر واقع ان کے گھر کے دروازے پر اُن کے مداحوں کی بڑی تعداد جمع ہے جنہوں نے ہاتھوں میں موم بتیاں اور پھول اُٹھا رکھے ہیں۔
ٹینا ٹرنر امریکی شہریت چھوڑ کر 2013 میں سوئس شہریت لینے کے بعد اپنے جرمن شوہر ایرون باخ کے ساتھ رہ رہی تھیں۔
سوئس صدر ایلین بیرسیٹ نے کہا کہ ’دنیا ایک آئیکون سے محروم ہو گئی ہے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹینا کی مضبوط شخصیت قابلِ ذکر تھی۔ مشکلات، حتیٰ کہ بدسلوکی پر قابو پاتے ہوئے انہوں نے اپنا کیریئر بنایا اور ایک ایسی زندگی بنائی جو مکمل طور پر اُن کی تھی۔‘
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اُن کا ذکر کچھ ایسے کیا کہ ’ایک ستارہ جس کی روشنی کبھی ختم نہیں ہو گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ٹینا ٹرنر طاقتور تھیں، انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ وہ سچ بولتی اور گاتی تھیں۔‘
برطانوی موسیقار ریک ایسٹلی نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’کیا خاتون تھیں، کیا زندگی، کیا آواز تھی۔ عظیم لوگوں میں سے ایک!‘
ٹینا ٹرنر گریمی ایوارڈ کے لیے 25 بار نامزد ہوئی تھیں، انہیں آٹھ بار یہ ایوارڈ ملا اور تین بار لائف ٹائم گریمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
گلوکارہ کا آخری کنسرٹ 2009 میں انگلینڈ میں ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے میوزک کی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا۔