ہندوستانی افواج میں خواتین اہلکار بھی غیرمحفوظ

ہندوستانی افواج میں خواتین اہلکار بھی غیرمحفوظ
کیپشن: Women personnel are also unsafe in Indian forces

ایک نیوز: ہندوستانی افواج میں خواتین اہلکار بھی غیر محفوظ ہوگئیں۔ ہندوستانی افواج، ہندوستان کے لئے بدنامی کا باعث بن چکی۔ گزشتہ 3سالوں میں 123خواتین اہلکاروں نے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی شکایات کیں۔ 

تفصیلات کے مطابق 2007 سے اب تک ہندوستانی افواج میں خواتین اہلکاروں کے ساتھ جنسی زیادتی کے1243 واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ 2015 سے2017 کے درمیان درجن سے زائد خواتین آفیسرز نے سینئر افسران کے ہاتھوں زیادتی کا دعویٰ کیا۔

2019میں تبت بارڈر پولیس کی ڈپٹی کمانڈنٹ کرنجیت کور نے ہندوستانی افواج میں خواتین اہلکاروں کے وسیع پیمانے پر استحصال کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی افواج میں خواتین اہلکاروں کو مرد اہلکاروں کو خوش کرنے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔

2021میں ہندوستانی فضائیہ کی خاتون پائلٹ نے سینئرسکواڈرن لیڈ ر کے خلاف ہراسگی اور جنسی زیادتی کی شکایت کی۔ واقعہ پر مٹی ڈالنے کے لیے بھارتی فضائیہ نے الٹا خاتون اہلکار کو سزا کے طور پر دُور دراز علاقے میں پوسٹ کر دیا۔ 

2005میں سکواڈرن لیڈر انجلی گُپتا کو ائیر مارشل انیل چوپڑا کی طرف سے دست درازی کی شکایت پر سروس سے ہی معطل کر دیا گیا۔ 2007 میں کیپٹن نیہا راوت نے میجر جنرل اے کے لعل کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت کی۔ 2008 میں کیپٹن پونم کور کا بالا افسران کے خلاف اجتماعی زیادتی کی شکایت پر کورٹ مارشل کر دیا گیا۔

2010 میں میجر میگھا گُپتا نے کرنل انورادھ مِشرہ کے خلاف جنسی زیادتی کا دعویٰ کیا لیکن بھارتی فوج نے کرنل مِشرہ کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔ 2014 میں حاضر سروس آفیسر کرنل اجیت کمار کی اہلیہ نے بریگیڈئیر جے سنگھ کے خلاف جنسی بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا۔ انکار کرنے پر سٹیشن کمانڈر بریگیڈئیر جے سنگھ نے کرنل اجیت کمار سے گھر خالی کروا ڈالا۔

بالا افسران کے ہاتھوں جنسی زیادتی، استحصال اور شکایات کی شنوائی نہ ہونے پر خواتین اہلکا ر خود کشی کرنے پر مجبور  ہیں۔ 2006 میں لیفٹیننٹ سشمیتا چکروتی نے کمانڈنگ آفیسر کے ہاتھوں مسلسل جنسی استحصال سے تنگ آکر کمیشن کے 10 ماہ بعد ہی خود کُشی کرلی تھی۔ 

دسمبر2016میں جنسی ہراسگی کا شکار میجر انیتا کماری نے جموں میں گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔ اکتوبر 2019میں پُونا میں لیفٹیننٹ رَشمی مِشرہ نے مسلسل جنسی استحصال سے تنگ آ کر دوپٹے کا پھندہ بنا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ 

رواں سال بھی بھٹنڈا میں فوجی جوان نے جنسی زیادتی کے بعد4اہلکاروں کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ ہندوستانی افواج کے بیرون ملک جنسی استحصال اور بداخلاقی کے قصے بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ کانگو میں امن مشن پر مامور بھارتی فوجی جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے۔ 3 ہندوستانی پیس کیپرز کو ساؤتھ افریقہ میں خاتون کے ریپ پر جیل کی سزا سنائی گئی۔